قرآن کو شراب خور خلفاء (ابوبکرؓ، عمرؓ، عثمانؓ) نے بدل دیا، موجودہ
قرآن غلط ہے، اس کو اصل حالت میں لانا امام مہدی (بارہویں امام) کا کام ہے، جب
امام مہدی (بارہواں امام) آئے گا، اُس دن قرآن اصلی حالت میں پڑھا جائے گا(نعوذ باللہ)۔﴿ترجمہ از مولوی مقبول حسین دھلوی، پارہ ۱۲، صفحہ
۳۸۴﴾
اللہ اور علیؓ میں فرق {خاتم
سلیمان کا مالک، یوم حساب کا مالک، صراطاور میدانِ حشر کا مالک، درختوں کو پتے دینے والا، پھلوں کو پکانے والا،
چشموں کو جاری کرنے والا، نہروں کو بہانے والا۔۔۔} (نعوذ
باللہ)۔﴿جلا
العیون، جلد۲، صفحہ ۶۰، طبع لاہور﴾
کسی نبی کو اُس وقت تک نبوت سے سرفراز نہیں کیا گیا جب تک اُس نے
اللہ کی صفت بداء (جھوٹ) کا اقرار نہیں کر لیا (نعوذ باللہ)۔﴿اصول کافی، جلد ۱، صفحۃ ۲۶۵۔ طبع ایران﴾